محسنِ نسواں حضرت محمدنے فرمایا: تمام جائزکاموں میں مجھے سب سے ناپسندیدہ عمل طلاق ہے۔

 


طلاق کو اس حیثیت سے ناپسند یدہ قرار دیا گیا ہے کہ اسلام کے مزاج میں رشتوں کو جوڑ نا اور رشتوں میں محبت اور مٹھاس پیدا کرنا ہے لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو سکے اور شوہر بیوی کے ایک ساتھ رہنے میں زندگی اجیرن ہونے لگے تو طلاق ہی احسن بن جاتی ہے اور اسلام اس کیلئے احسن طریقہ بیان کرتا ہے، جو تفصیل سے سورہ ٔطلاق میں موجود ہے۔
اِسلام نے جس طرح مردوں کو طلاق کا حق دیا ہے اسی طرح عورتوں کو خلع کا حق دیا ہے۔ اگر شوہر اور بیوی کو اندیشہ ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ٹھہر ائے ہوئے حقوق اور واجبات ادانہیں ہو سکیں گے تو باہمی رضامندی سے ایسا ہو سکتا ہے کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحد گی حاصل کرلے۔ قرآن کہتا ہے:اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ دونوں اللہ کی حدوں پر قائم نہ رہ سکیں گے تو ان دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ عورت کچھ دے کر شوہر سے علیحد گی حاصل کرلے، یادر کھو یہ اللہ کی ٹھہر ائی ہوئی حد بندیاں ہیں، پس ان سے باہر قدم نہ نکالو اور اپنی حدوں کے اندررہو، جو کوئی اللہ کی ٹھہر ائی ہو ئی حدبندیوں سے نکل جائیگا تو ایسے ہی لوگ ہیں جو ظلم کرنیوالے ہیں(البقرہ 229)۔

 

 
عورت چاہے تو اپنے نکاح نامے میں کچھ شرطیں رکھ سکتی ہے کہ ان کے پورے نہ ہو نے کی صورت میں وہ شوہر سے طلاق حاصل کر لے۔اس طرح بجاطور پر کہا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید نے قدم قدم پر عورت کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

دنیا کامہنگا ترین ہوٹل جہاں خطرناک شارک مہمانوں کا استقبال کرتی ہے

بھارتی پنجابی فلموں کے معروف ترین اداکار اور گلوکار چپکے سے پاکستان پہنچ گئے اور کسی کو خبر ہی نہ ہوئی

جنرل قاآنی نے امریکیوں کو قتل کیا تو انکا حال بھی جنرل قاسم جیسا ہو گا: امریکا